اس وقت کوئی بریکنگ ہیڈلائن دستیاب نہیں۔

پاکش نیوز|24 اگست، 2026|8 منٹ مطالعہ

گریجویٹس کی نوکریوں میں ۵۰ فیصد تک کمی: ۲۰۱۶ کے بعد سب سے بڑی گراوٹ

ملازمتوں کی تلاش کی عالمی ویب سائٹ ایڈزونا (Adzuna) کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، گزشتہ ایک سال کے دوران گریجویٹس کے لیے دستیاب نوکریوں کے مواقع میں تقریباً ۵۰ فیصد کی حیران کن کمی واقع ہوئی ہے۔...

اس مضمون سے پوچھیں

ایڈزونا کی رپورٹ کے مطابق، گریجویٹس کی نوکریوں میں گزشتہ ایک سال میں تقریباً ۵۰ فیصد کمی ہوئی ہے، جو ۲۰۱۶ کے بعد سب سے نچلی سطح ہے۔ یہ کمی عالمی اقتصادی سست روی، بلند افراط زر اور شرح سود میں اضافے کے باعث سامنے آئی ہے، جس سے نوجوانوں کے مستقبل پر گہرے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال نے پاکستان، متحدہ عرب امارات اور خلیجی خطے کے لاکھوں نوجوانوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جو اپنے کیریئر کا آغاز کرنے کی امید رکھتے ہیں۔

ایک نظر میں

عالمی سطح پر گریجویٹس کی نوکریوں میں حیران کن ۵۰ فیصد کمی نے پاکستان اور خلیجی خطے میں نوجوانوں کے مستقبل پر تشویش کے بادل گہرے کر دیے ہیں۔

  • گریجویٹس کی نوکریوں میں اتنی بڑی کمی کیوں ہوئی ہے؟ عالمی اقتصادی سست روی، بلند افراط زر اور مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں اضافے نے کمپنیوں کو بھرتیوں میں محتاط بنا دیا ہے، جس سے نئے گریجویٹس کے لیے دستیاب مواقع میں نمایاں کمی آئی ہے۔
  • اس صورتحال کا پاکستان اور خلیجی خطے پر کیا اثر پڑے گا؟ پاکستان میں بے روزگاری میں مزید اضافہ اور متحدہ عرب امارات و خلیجی ممالک میں تارکین وطن کے لیے ملازمتوں کے مواقع میں کمی کا خدشہ ہے، خاص طور پر غیر ملکی سرمایہ کاری متاثر ہونے کی صورت میں۔
  • گریجویٹس اپنے کیریئر کے لیے اس چیلنجنگ صورتحال میں کیا اقدامات کر سکتے ہیں؟ گریجویٹس کو اضافی اور جدید ہنر سیکھنے، انٹرپرینورشپ پر توجہ دینے اور مارکیٹ کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی ضرورت ہے تاکہ بڑھتے ہوئے مسابقت کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کر سکیں۔

یہ اعداد و شمار عالمی سطح پر ملازمتوں کی منڈی میں ایک اہم تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔ خاص طور پر نئے فارغ التحصیل افراد کے لیے، جو اب پہلے سے کہیں زیادہ مسابقتی ماحول کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایڈزونا کے مطابق، کمپنیوں نے اقتصادی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر بھرتیوں کے عمل کو سست کر دیا ہے یا مکمل طور پر روک دیا ہے۔

جیسا کہ پاکش نیوز نے پہلے رپورٹ کیا, انگلینڈ اور ویلز میں ہوٹلوں، شراب خانوں کے کاروباری ٹیکس کی اصلاح کا امکان.

  • گریجویٹس کی نوکریوں میں ایک سال میں تقریباً ۵۰ فیصد کمی۔
  • ۲۰۱۶ کے بعد نوکریوں کے مواقع کی سب سے نچلی سطح ریکارڈ کی گئی۔
  • عالمی اقتصادی سست روی اور بلند افراط زر اہم وجوہات ہیں۔
  • پاکستان اور خلیجی ممالک کے گریجویٹس پر گہرے اثرات کا خدشہ ہے۔
  • ایڈزونا کی رپورٹ میں بھرتی کے عمل میں سست روی کا انکشاف۔

عالمی اقتصادی سست روی اور نوکریوں پر اس کے اثرات

عالمی سطح پر معیشت کئی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، جن میں بلند افراط زر، مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں مسلسل اضافہ، اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ شامل ہیں۔ ان عوامل نے کمپنیوں کے منافع کو متاثر کیا ہے اور انہیں اخراجات کم کرنے پر مجبور کیا ہے۔ مالیاتی اداروں اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں، جہاں گریجویٹس کو ماضی میں بڑے پیمانے پر ملازمتیں ملتی تھیں، خاص طور پر بھرتیوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی اپنی حالیہ رپورٹوں میں عالمی اقتصادی ترقی کی رفتار سست رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ اس سست روی کا براہ راست اثر ملازمتوں کی منڈی پر پڑتا ہے کیونکہ کمپنیاں نئے منصوبے شروع کرنے یا توسیع کرنے سے گریز کرتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں نئے فارغ التحصیل افراد کے لیے دستیاب پوزیشنز میں نمایاں کمی آتی ہے۔

پاکستان اور خلیجی خطے کے گریجویٹس کے لیے چیلنجز

یہ عالمی رجحان پاکستان، متحدہ عرب امارات اور خلیجی خطے میں بھی اپنے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ پاکستان میں، پہلے ہی بلند بے روزگاری کی شرح، افراط زر کا دباؤ، اور آئی ایم ایف کے ساتھ بیل آؤٹ پروگرام کی شرائط کی وجہ سے معیشت مشکلات کا شکار ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹس کے مطابق، کاروباری اعتماد میں کمی آئی ہے، جس سے نجی شعبے میں نئی ملازمتوں کی تخلیق متاثر ہو رہی ہے۔

متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک اپنی معیشتوں کو تیل پر انحصار سے ہٹ کر متنوع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، عالمی سست روی اور غیر یقینی صورتحال ان کوششوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ خلیجی ممالک میں تارکین وطن گریجویٹس کے لیے ملازمتوں کے مواقع میں کمی کا خدشہ ہے، خاص طور پر تعمیرات، سیاحت اور مالیاتی خدمات جیسے شعبوں میں۔ یہ صورتحال ان ممالک میں پہلے سے موجود مسابقت کو مزید بڑھا دے گی۔

پاکستانی معیشت اور نوجوانوں کا مستقبل

پاکستان میں سالانہ لاکھوں گریجویٹس یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں، جن میں سے ایک بڑا حصہ پہلے ہی ملازمتوں کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔ ٹیکسٹائل، زراعت، اور آئی ٹی سروسز جیسے اہم شعبوں میں عالمی اقتصادی حالات کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، ٹیکسٹائل سیکٹر کو عالمی طلب میں کمی اور بڑھتے ہوئے پیداواری اخراجات کا سامنا ہے، جس سے ملازمتوں میں کمی آ رہی ہے۔

سی پیک (CPEC) کے تحت جاری منصوبے کچھ حد تک ملازمتوں کے مواقع فراہم کر رہے ہیں، لیکن یہ تمام گریجویٹس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو ہنر مندی کے فروغ کے پروگراموں اور انٹرپرینورشپ کی حوصلہ افزائی پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوانوں کو خود روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

ماہرین کا تجزیہ اور آئندہ کی راہیں

معروف ماہر اقتصادیات، ڈاکٹر فرقان احمد، نے پاکش نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "گریجویٹس کی نوکریوں میں کمی ایک خطرناک رجحان ہے جو سماجی اور اقتصادی عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ حکومتوں کو نجی شعبے کے ساتھ مل کر ہنر مندی کے ایسے پروگرام شروع کرنے ہوں گے جو مارکیٹ کی موجودہ اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں۔" ان کا مزید کہنا تھا کہ خاص طور پر ڈیجیٹل ہنر اور قابل تجدید توانائی جیسے شعبوں میں تربیت پر زور دینا چاہیے۔

ہیومن ریسورس کے ماہر، محترمہ سارہ خان، نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "کمپنیاں اب ایسے امیدواروں کو ترجیح دے رہی ہیں جن کے پاس نہ صرف تعلیمی قابلیت ہو بلکہ عملی تجربہ اور اضافی ہنر بھی ہوں۔ گریجویٹس کو اپنی نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ انٹرنشپس، کورسز، اور رضاکارانہ کام کے ذریعے اپنے پروفائل کو مضبوط بنانا چاہیے۔" انہوں نے مزید زور دیا کہ لچکدار کام کے ماڈلز اور ریموٹ جابز کی جانب بڑھتے رجحانات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

حکومتی پالیسیاں اور تعلیمی نظام کی اصلاحات

اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر جامع پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں کو صنعت کی ضروریات کے مطابق اپنے نصاب کو اپ ڈیٹ کرنا چاہیے اور گریجویٹس کو عملی ہنر سکھانے پر توجہ دینی چاہیے۔ پاکستان میں، ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (TEVTA) جیسے اداروں کو مارکیٹ کی طلب کے مطابق شارٹ کورسز اور ڈپلومہ پروگرام شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

خلیجی ممالک میں، جہاں مقامی آبادی میں ملازمتوں کے حصول کی خواہش بڑھ رہی ہے، حکومتوں کو مقامی گریجویٹس کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہوگا۔ یہ نہ صرف ملازمتیں پیدا کرے گا بلکہ معیشت کو بھی مضبوط کرے گا۔ آئندہ سہ ماہی میں عالمی معیشت میں ممکنہ استحکام کی صورت میں ہی بھرتیوں کے عمل میں بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔

اہم نکات

  • ملازمت کے مواقع: عالمی سطح پر گریجویٹس کے لیے نوکریوں میں تقریباً ۵۰ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
  • اقتصادی عوامل: بلند افراط زر، شرح سود میں اضافہ، اور عالمی سست روی اہم وجوہات ہیں۔
  • علاقائی اثرات: پاکستان میں بے روزگاری میں اضافہ اور خلیجی ممالک میں تارکین وطن کے لیے ملازمتوں کی کمی کا خدشہ ہے۔
  • سیکٹرز متاثر: ٹیکنالوجی، فنانس، مشاورت اور تعمیرات کے شعبے خاص طور پر متاثر ہوئے ہیں۔
  • ماہرین کی رائے: مارکیٹ میں استحکام کے لیے حکومتی اور تعلیمی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
  • حکومتی کردار: ہنر مندی کے فروغ، انٹرپرینورشپ کی حمایت اور نصاب کی صنعت سے ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اہم اصطلاحات اور مزید پڑھیں

  • گریجویٹ نوکریاں
  • ملازمت کے مواقع
  • بے روزگاری
  • عالمی معیشت
  • افراط زر
  • پاکستان روزگار
  • خلیجی ملازمتیں
  • ایڈزونا رپورٹ
  • بزنس
  • Graduate
  • vacancies
  • drop
  • almost
  • year

معتبر ذرائع:

متعلقہ خبریں

آرکائیو دریافت

اکثر پوچھے گئے سوالات

گریجویٹس کی نوکریوں میں اتنی بڑی کمی کیوں ہوئی ہے؟

عالمی اقتصادی سست روی، بلند افراط زر اور مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں اضافے نے کمپنیوں کو بھرتیوں میں محتاط بنا دیا ہے، جس سے نئے گریجویٹس کے لیے دستیاب مواقع میں نمایاں کمی آئی ہے۔

اس صورتحال کا پاکستان اور خلیجی خطے پر کیا اثر پڑے گا؟

پاکستان میں بے روزگاری میں مزید اضافہ اور متحدہ عرب امارات و خلیجی ممالک میں تارکین وطن کے لیے ملازمتوں کے مواقع میں کمی کا خدشہ ہے، خاص طور پر غیر ملکی سرمایہ کاری متاثر ہونے کی صورت میں۔

گریجویٹس اپنے کیریئر کے لیے اس چیلنجنگ صورتحال میں کیا اقدامات کر سکتے ہیں؟

گریجویٹس کو اضافی اور جدید ہنر سیکھنے، انٹرپرینورشپ پر توجہ دینے اور مارکیٹ کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی ضرورت ہے تاکہ بڑھتے ہوئے مسابقت کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کر سکیں۔

Source: Official Agency via پاکش نیوز Research.

یہ خبر شیئر کریں

[DISCOVERY_AI_WIDGET: LOADING_RECOMMENDED_ROWS...]

تبصرے

تبصرہ کرنے کے لیے Ghost ممبر لاگ اِن ضروری ہے (فری ممبرشپ قابلِ قبول ہے).