اس وقت کوئی بریکنگ ہیڈلائن دستیاب نہیں۔

پاکش نیوز|12 جولائی، 2026|11 منٹ مطالعہ

پاکستان میں شدید گرمی کی لہر: ریکارڈ توڑ درجہ حرارت، صحت کے خطرات

پاکستان کے بیشتر علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، جہاں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے نے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ ماہرین نے صحت عامہ کے لیے خطرات سے خبردار کیا ہے۔...

اس مضمون سے پوچھیں

پاکستان میں شدید گرمی کی لہر: ریکارڈ توڑ درجہ حرارت، صحت کے خطرات

پاکستان کے بیشتر علاقے اس وقت شدید گرمی کی لہر کی زد میں ہیں، جہاں پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف عام زندگی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ ماہرین نے اسے صحت عامہ کے لیے ایک بڑا خطرہ بھی قرار دیا ہے۔ اس موسمیاتی تبدیلی نے ملک بھر میں پانی کی قلت اور بجلی کے شدید بحران کو بھی جنم دیا ہے، جس کے اثرات فوری طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

ایک نظر میں

پاکستان شدید گرمی کی لپیٹ میں، ریکارڈ توڑ درجہ حرارت نے صحت اور روزمرہ زندگی کو متاثر کیا۔ ماہرین نے موسمیاتی تبدیلی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

  • پاکستان میں آج موسم کیسا ہے؟ پاکستان کے بیشتر علاقے آج شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، جہاں کئی شہروں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا ہے اور موہنجو دڑو میں 50.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ صورتحال صحت عامہ کے لیے خطرات کا باعث بن رہی ہے۔
  • پاکستان میں شدید گرمی کی موجودہ لہر کی وجوہات کیا ہیں؟ موجودہ شدید گرمی کی لہر کی بنیادی وجہ موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کے اثرات ہیں۔ بحر ہند کے گرم ہونے سے موسمیاتی پیٹرن میں تبدیلی آئی ہے، جبکہ شہری علاقوں میں سبزہ زاروں کی کمی بھی ہیٹ آئی لینڈ اثر کو بڑھا رہی ہے۔
  • شہریوں کو شدید گرمی سے بچنے کے لیے کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں؟ شہریوں کو چاہیے کہ وہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، زیادہ سے زیادہ پانی اور مشروبات کا استعمال کریں، ہلکے رنگ کے ڈھیلے کپڑے پہنیں، اور سر ڈھانپ کر رکھیں۔ حکومتی ہدایات کے مطابق ہیٹ اسٹروک مراکز سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

موجودہ موسمی صورتحال، جو پاکستان کے مختلف شہروں میں ریکارڈ توڑ درجہ حرارت کا باعث بنی ہے، شہریوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ حکام نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنے کی تلقین کی ہے۔ اس غیر معمولی ہیٹ ویو کے پیچھے موسمیاتی تبدیلیوں کے گہرے اثرات کارفرما ہیں، جس کی تفصیلات سائنسی شواہد کے ساتھ آگے چل کر بیان کی جائیں گی۔

  • ریکارڈ توڑ درجہ حرارت: ملک کے کئی شہروں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا۔
  • صحت کے خطرات: ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کے کیسز میں اضافہ، صحت عامہ کے اداروں کو الرٹ جاری۔
  • پانی اور بجلی کا بحران: بڑھتی ہوئی طلب کے باعث بجلی کی لوڈشیڈنگ اور پانی کی قلت میں شدت۔
  • حکومتی ہدایات: شہری علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر کی اپیل۔
  • موسمیاتی تبدیلی کا اثر: ماہرین نے اس صورتحال کو موسمیاتی تبدیلیوں سے جوڑا ہے۔

موجودہ موسمی صورتحال اور ریکارڈ توڑ درجہ حرارت

پاکستان کے محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سندھ کے شہر موہنجو دڑو میں سب سے زیادہ درجہ حرارت 50.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، جیکب آباد میں 49 ڈگری، دادو میں 48 ڈگری، اور سکھر میں 47 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت رہا۔ پنجاب کے جنوبی علاقوں، بشمول بہاولپور اور ملتان، میں بھی درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر رہا۔ یہ درجہ حرارت اس سال کے موسم گرما کے لیے ایک نیا ریکارڈ ہے۔

ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ یہ شدید گرمی کی لہر آئندہ چند روز تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں، رواں سال درجہ حرارت میں اوسطاً 3 سے 5 ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ دیکھا گیا ہے، جو موسمیاتی تبدیلی کے واضح اشارے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل، ڈاکٹر سردار سرفراز، نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ "ملک کے بالائی علاقوں میں بھی درجہ حرارت معمول سے زیادہ ہے، جس کی وجہ سے پہاڑی علاقوں میں گلیشیئرز پگھلنے کی رفتار میں تیزی آ سکتی ہے اور سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

"

متاثرہ علاقے اور حکومتی اقدامات

ملک کے شہری اور دیہی دونوں علاقے اس شدید گرمی سے متاثر ہیں۔ کراچی، لاہور، اور فیصل آباد جیسے بڑے شہروں میں بھی درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر ریکارڈ کیا گیا، جس سے شہریوں کو روزمرہ کے معمولات میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت نے تمام صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز) کو ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور انہیں ہیٹ اسٹروک کے مراکز قائم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

صوبائی حکام نے عوام کو گھروں میں رہنے، پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے، اور ہلکے لباس پہننے کی تاکید کی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ترجمان نے بتایا کہ "ہم نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے اقدامات کریں۔" تاہم، بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافے کے باعث شہروں میں 10 سے 12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ رپورٹ کی گئی ہے۔

پس منظر اور موسمیاتی تبدیلی کا اثر

پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ گزشتہ دہائی میں ملک کو سیلاب، خشک سالی، اور شدید گرمی کی لہروں جیسے متعدد موسمیاتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق، جنوبی ایشیا میں گرمی کی لہروں کی شدت اور دورانیے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ گلوبل وارمنگ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ماحول میں کاربن کے اخراج میں کمی نہ کی گئی تو مستقبل میں ایسی ہیٹ ویوز مزید شدت اختیار کریں گی۔ یونیورسٹی آف کراچی کے شعبہ موسمیات کے پروفیسر ڈاکٹر قیصر محمود نے وضاحت کی کہ "بحر ہند کے گرم ہونے سے پاکستان کے ساحلی علاقوں میں مون سون کے پیٹرن میں تبدیلی آ رہی ہے، جس کے نتیجے میں غیر معمولی بارشیں یا شدید خشک سالی جیسے حالات پیدا ہو رہے ہیں۔ موجودہ ہیٹ ویو بھی اسی بڑے موسمیاتی رجحان کا حصہ ہے۔"

ماہرین کا تجزیہ اور صحت پر اثرات

موجودہ شدید گرمی کی لہر کے انسانی صحت پر گہرے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ میڈیکل ماہرین نے ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی (dehydration)، اور گردے کے امراض میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ پمز ہسپتال اسلام آباد کے ڈاکٹر عدنان خان نے بتایا کہ "ہم نے گزشتہ چند دنوں میں ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کے کئی کیسز دیکھے ہیں، خاص طور پر بزرگوں اور بچوں میں۔ عوام کو چاہیے کہ وہ دھوپ سے بچیں، سر ڈھانپ کر رکھیں، اور زیادہ سے زیادہ پانی پیئیں۔"

ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں میں بڑھتی ہوئی کنکریٹائزیشن اور درختوں کی کمی 'اربن ہیٹ آئی لینڈ' اثر کو بڑھا رہی ہے، جہاں شہروں کا درجہ حرارت دیہی علاقوں کے مقابلے میں کئی ڈگری زیادہ ہوتا ہے۔ یہ صورتحال شہری آبادی کے لیے صحت کے مزید خطرات پیدا کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) کی حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ شہروں میں سبزہ زاروں کی کمی براہ راست گرمی کی شدت میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔

معیشت اور زراعت پر ممکنہ اثرات

شدید گرمی کی لہر کے معیشت اور زراعت پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ چونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، لہٰذا فصلوں کی پیداوار، خاص طور پر چاول اور کپاس، پر گرمی کی شدت سے برا اثر پڑ سکتا ہے۔ پانی کی قلت کی وجہ سے نہری نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جس سے فصلوں کی آبپاشی متاثر ہو رہی ہے۔

بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب سے صنعتی پیداوار بھی متاثر ہو رہی ہے، کیونکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث فیکٹریوں کو اپنا کام روکنا پڑ رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، موسمیاتی آفات سے ملک کی جی ڈی پی کو سالانہ 2 سے 3 فیصد کا نقصان ہو رہا ہے، اور موجودہ ہیٹ ویو اس نقصان میں مزید اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

اثرات کا جائزہ: عام شہریوں کی زندگی پر دباؤ

عام شہریوں کی زندگی اس شدید گرمی سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ روزانہ اجرت کمانے والے مزدوروں، رکشہ ڈرائیوروں، اور دکانداروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی علاقوں میں پانی کی فراہمی میں تعطل اور بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ کراچی کے ایک رہائشی محمد علی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ "گرمی اتنی زیادہ ہے کہ دن کے وقت کام کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ بجلی نہیں ہوتی اور پینے کا پانی بھی مشکل سے مل رہا ہے۔"

خواتین اور بچے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، جہاں ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کے وسائل محدود ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں کو ان طبقوں کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ موسمیاتی دباؤ معاشرتی ناہمواریوں کو بھی بڑھا رہا ہے، جہاں غریب طبقہ شدید موسمی حالات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔

علاقائی تناظر اور خلیجی ممالک میں صورتحال

پاکستان کی طرح خلیجی خطہ اور متحدہ عرب امارات بھی موسم گرما میں شدید گرمی کا شکار رہتے ہیں۔ تاہم، خلیجی ممالک میں جدید انفراسٹرکچر اور ایئر کنڈیشنگ کی وسیع دستیابی کے باعث شہری زندگی کا پہلو قدرے مختلف ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں بھی حالیہ برسوں میں درجہ حرارت میں اضافہ دیکھا گیا ہے، اور حکام گرمی سے بچاؤ کے لیے سخت اقدامات کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات جغرافیائی حدود سے ماورا ہیں۔ پاکستان میں شدید گرمی کی لہر خلیجی ممالک کے لیے بھی ایک انتباہ ہے کہ وہ مستقبل کے موسمیاتی چیلنجز کے لیے مزید تیار رہیں۔ عالمی موسمیاتی فورم میں پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں درجہ حرارت میں اضافہ عالمی اوسط سے زیادہ ہو رہا ہے۔

آگے کیا ہوگا: آئندہ چند روز کی پیشگوئیاں

محکمہ موسمیات کے مطابق، آئندہ 48 سے 72 گھنٹوں کے دوران پاکستان کے بیشتر علاقوں میں شدید گرمی کی لہر برقرار رہنے کا امکان ہے۔ پنجاب، سندھ، اور بلوچستان کے میدانی علاقوں میں درجہ حرارت 45 سے 48 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہ سکتا ہے۔ اسلام آباد اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں بھی گرمی کی شدت میں اضافہ متوقع ہے۔

تاہم، ہفتے کے آخر تک بالائی پاکستان، بشمول گلگت بلتستان اور کشمیر کے کچھ حصوں میں ہلکی بارشوں اور گرج چمک کے ساتھ بادل برسنے کا امکان ہے۔ یہ بارشیں مقامی طور پر گرمی کی شدت میں کمی لا سکتی ہیں، لیکن مجموعی طور پر ملک کے بیشتر حصوں میں گرمی کا راج برقرار رہے گا۔ طویل مدتی پیشگوئیاں یہ بتاتی ہیں کہ رواں سال مون سون کا آغاز معمول سے کچھ تاخیر سے ہو سکتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ گرمی کی لہر کا دورانیہ معمول سے زیادہ ہو سکتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی حکمت عملی

مستقبل میں ایسی موسمیاتی آفات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو ایک جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی، قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا، اور شہری علاقوں میں درخت کاری اور سبزہ زاروں میں اضافہ شامل ہے۔ حکومت کی جانب سے 'کلین گرین پاکستان' مہم اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے، تاہم اس کے نتائج کے لیے طویل المدتی کوششوں کی ضرورت ہے۔

ماہرین ماحولیات نے یہ بھی تجویز کیا ہے کہ عوام کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور ان سے بچاؤ کے طریقوں کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے۔ اس میں گرمی کے موسم میں پانی کا دانشمندانہ استعمال، درخت لگانے کی ترغیب، اور توانائی کی بچت کے اقدامات شامل ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بھی موسمیاتی فنڈز اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے انتہائی اہم ہے۔

اہم نکات

  • شدید گرمی: پاکستان کے کئی شہروں میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا، جو ایک ریکارڈ ہے۔
  • صحت عامہ: ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور دیگر گرمی سے متعلقہ بیماریوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
  • حکومتی الرٹ: صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا، ہیٹ اسٹروک مراکز قائم۔
  • پانی و بجلی: بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور پانی کی قلت نے شہریوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔
  • موسمیاتی تبدیلی: ماہرین نے موجودہ ہیٹ ویو کو موسمیاتی تبدیلیوں کا براہ راست نتیجہ قرار دیا ہے۔
  • مستقبل کی پیشگوئیاں: آئندہ چند روز تک گرمی کی شدت برقرار رہے گی، مون سون میں تاخیر کا امکان۔

اہم اصطلاحات اور مزید پڑھیں

  • آج کا موسم پاکستان
  • شدید گرمی پاکستان
  • ہیٹ ویو
  • موسمیاتی تبدیلی
  • موسم کی پیشگوئی
  • پاکستان کا موسم
  • trending
  • today
  • weather

بنیادی ذریعہ: Trend Feed

معتبر ذرائع:

اکثر پوچھے گئے سوالات

پاکستان میں آج موسم کیسا ہے؟

پاکستان کے بیشتر علاقے آج شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، جہاں کئی شہروں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا ہے اور موہنجو دڑو میں 50.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ صورتحال صحت عامہ کے لیے خطرات کا باعث بن رہی ہے۔

پاکستان میں شدید گرمی کی موجودہ لہر کی وجوہات کیا ہیں؟

موجودہ شدید گرمی کی لہر کی بنیادی وجہ موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کے اثرات ہیں۔ بحر ہند کے گرم ہونے سے موسمیاتی پیٹرن میں تبدیلی آئی ہے، جبکہ شہری علاقوں میں سبزہ زاروں کی کمی بھی ہیٹ آئی لینڈ اثر کو بڑھا رہی ہے۔

شہریوں کو شدید گرمی سے بچنے کے لیے کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں؟

شہریوں کو چاہیے کہ وہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، زیادہ سے زیادہ پانی اور مشروبات کا استعمال کریں، ہلکے رنگ کے ڈھیلے کپڑے پہنیں، اور سر ڈھانپ کر رکھیں۔ حکومتی ہدایات کے مطابق ہیٹ اسٹروک مراکز سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

Source: Official Agency via پاکش نیوز Research.

یہ خبر شیئر کریں

[DISCOVERY_AI_WIDGET: LOADING_RECOMMENDED_ROWS...]

تبصرے

تبصرہ کرنے کے لیے Ghost ممبر لاگ اِن ضروری ہے (فری ممبرشپ قابلِ قبول ہے).