اس وقت کوئی بریکنگ ہیڈلائن دستیاب نہیں۔

پاکش نیوز|22 اگست، 2026|9 منٹ مطالعہ

وزیراعظم کا پی آئی ایم ایس سی ٹی اے مشین کی خرابی کا نوٹس، تحقیقات کا حکم

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) کے شعبہ امراض قلب میں غیر فعال سی ٹی اے (کمپیوٹڈ ٹوموگرافی انجیوگرافی) مشین کا نوٹس لے لیا ہے۔ یہ اقدام سابق وزیراعظم عمران خان کے طبی معائنے کے لیے ہسپتال لائے جانے کے بعد سامنے آیا، جہاں ان کا مطلوبہ ٹیسٹ نہ ہو سکا۔...

اس مضمون سے پوچھیں

وزیراعظم کا پی آئی ایم ایس سی ٹی اے مشین کی خرابی کا نوٹس، تحقیقات کا حکم

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتہ کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) کے شعبہ امراض قلب میں غیر فعال سی ٹی اے (کمپیوٹڈ ٹوموگرافی انجیوگرافی) مشین کا فوری نوٹس لے لیا ہے۔ یہ اہم پیش رفت سابق وزیراعظم عمران خان کو طبی معائنے کے لیے ہسپتال لائے جانے کے بعد سامنے آئی، جہاں مشین کی خرابی کے باعث ان کا مطلوبہ ٹیسٹ انجام نہ دیا جا سکا۔ وزیراعظم نے اس معاملے کی فوری تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

ایک نظر میں

وزیراعظم شہباز شریف نے پی آئی ایم ایس میں غیر فعال سی ٹی اے مشین کا نوٹس لیا، جس کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان کا ٹیسٹ نہ ہو سکا۔ انہوں نے تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کر دی۔

  • وزیراعظم شہباز شریف نے پی آئی ایم ایس میں کس مسئلے کا نوٹس لیا؟ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) کے شعبہ امراض قلب میں غیر فعال سی ٹی اے (کمپیوٹڈ ٹوموگرافی انجیوگرافی) مشین کا نوٹس لیا۔ یہ مشین سابق وزیراعظم عمران خان کے طبی معائنے کے دوران غیر فعال پائی گئی۔
  • سی ٹی اے مشین کی خرابی کے بعد کیا اقدامات کیے گئے؟ سی ٹی اے مشین کی خرابی کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعظم نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکرٹری کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کو اس معاملے کی تمام جہتوں کا جائزہ لینے، حقائق کا تعین کرنے اور ذمہ داران کا تعین کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
  • اس واقعہ کے عوامی صحت کے نظام پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟ اس واقعہ نے عوامی صحت کے نظام میں طبی آلات کی دیکھ بھال کی خامیوں کو اجاگر کیا ہے۔ اس سے مریضوں کو بروقت تشخیص اور علاج کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، اور سرکاری ہسپتالوں پر عوامی اعتماد میں کمی آ سکتی ہے۔
  • وزیراعظم شہباز شریف نے پی آئی ایم ایس کی غیر فعال سی ٹی اے مشین کا نوٹس لیا۔
  • یہ نوٹس سابق وزیراعظم عمران خان کے طبی معائنے کے دوران مشین کی خرابی کے بعد لیا گیا۔
  • وزیراعظم نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکرٹری کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے۔
  • کمیٹی کو حقائق کا تعین کرنے اور ذمہ داری کا تعین کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔
  • اس واقعہ نے عوامی صحت کے نظام میں آلات کی دیکھ بھال کے مسائل کو اجاگر کیا ہے۔

واقعہ کی تفصیلات اور حکومتی ردعمل

سرکاری ذرائع کے مطابق، سابق وزیراعظم عمران خان کو ایک معمول کے طبی معائنے کے لیے پی آئی ایم ایس کے شعبہ امراض قلب میں لایا گیا تھا۔ ہسپتال میں ان کے بعض ضروری ٹیسٹ ہونے تھے جن میں سی ٹی اے بھی شامل تھا۔ تاہم، ہسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ سی ٹی اے مشین طویل عرصے سے غیر فعال تھی، جس کے باعث یہ اہم ٹیسٹ انجام نہ دیا جا سکا۔ اس صورتحال سے ہسپتال کے اندر اور باہر دونوں جگہ تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

جیسا کہ پاکش نیوز نے پہلے رپورٹ کیا, راولپنڈی میں سیکیورٹی خدشات پر پاک فوج تعینات.

اس واقعہ کی اطلاع وزیراعظم شہباز شریف تک پہنچنے پر انہوں نے صورتحال کی سنگینی کا فوری ادراک کیا۔ وزیراعظم ہاؤس سے جاری ایک اعلامیے کے مطابق، وزیراعظم نے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اسے عوامی صحت کے لیے ایک سنگین مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کے سب سے بڑے اور اہم طبی اداروں میں سے ایک میں اس قسم کی لاپرواہی ناقابل برداشت ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل

وزیراعظم نے اس معاملے کی تمام جہتوں کا جائزہ لینے، حقائق کا تعین کرنے اور ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اس کمیٹی کی سربراہی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکرٹری کریں گے۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جلد از جلد اپنی رپورٹ پیش کرے تاکہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جا سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔ کمیٹی میں طبی ماہرین اور انتظامی امور کے ماہرین بھی شامل ہوں گے۔

پی آئی ایم ایس میں طبی آلات کی صورتحال

پی آئی ایم ایس پاکستان کے چند بڑے اور سب سے اہم طبی اداروں میں سے ایک ہے، جو پورے ملک سے آنے والے مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ اس ہسپتال میں جدید طبی آلات کی موجودگی اور ان کی فعالیت مریضوں کی جان بچانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ سی ٹی اے مشین جیسے آلات دل کے امراض کی تشخیص میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، اور ان کی عدم دستیابی ہزاروں مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

حکام کے مطابق، پی آئی ایم ایس میں طبی آلات کی دیکھ بھال اور مرمت کا نظام ہمیشہ سے ایک چیلنج رہا ہے۔ ماضی میں بھی ایسی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں جہاں مہنگے اور اہم آلات فنڈز کی کمی، پرزہ جات کی عدم دستیابی یا تکنیکی عملے کی کمی کی وجہ سے غیر فعال ہو جاتے ہیں۔ یہ مسئلہ نہ صرف پی آئی ایم ایس بلکہ ملک کے دیگر بڑے سرکاری ہسپتالوں میں بھی عام ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری اور اس کی مناسب دیکھ بھال کی اشد ضرورت ہے۔

عوامی صحت کے نظام پر اثرات

سی ٹی اے مشین کی خرابی کا یہ واقعہ عوامی صحت کے نظام میں موجود خامیوں کو اجاگر کرتا ہے۔ جب ایک سابق وزیراعظم جیسے اہم شخص کو بھی عوامی ہسپتال میں ضروری طبی سہولیات میسر نہ ہوں تو عام شہریوں کے لیے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق، بروقت تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے دل کے مریضوں کی حالت بگڑ سکتی ہے اور بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

اس صورتحال سے عوام میں سرکاری ہسپتالوں پر اعتماد میں کمی آ سکتی ہے اور وہ مہنگے نجی ہسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کی آراء اور ادارہ جاتی چیلنجز

طبی ماہرین نے اس واقعہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک سینئر کارڈیالوجسٹ، ڈاکٹر احمد سلیم کے مطابق، "سی ٹی اے مشین دل کے مریضوں میں شریانوں کی رکاوٹ کا پتہ لگانے کے لیے ایک بنیادی ٹول ہے۔ اس کی عدم فعالیت کا مطلب ہے کہ بہت سے مریضوں کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن نہیں ہو پائے گا، جس کے تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں۔ یہ محض ایک مشین کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے نظام کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔"

عوامی انتظامیہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ صرف آلات کی خریداری کا نہیں بلکہ ان کی مناسب دیکھ بھال، مرمت اور تکنیکی عملے کی تربیت کا ہے۔ ایک سابق بیوروکریٹ، جناب حسن عسکری کے مطابق، "ہمارے ہسپتالوں میں آلات خرید لیے جاتے ہیں لیکن ان کے لیے سالانہ دیکھ بھال کے بجٹ اور تربیت یافتہ عملے کی فراہمی کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہنگے آلات جلد ہی ناکارہ ہو جاتے ہیں۔ اس کے لیے ایک جامع پالیسی اور سخت احتساب کا نظام درکار ہے۔"

مستقبل کے ممکنہ اقدامات اور اثرات

وزیراعظم کی جانب سے کمیٹی کی تشکیل سے امید کی جا رہی ہے کہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچا جائے گا اور ذمہ داروں کا تعین ہو گا۔ توقع ہے کہ کمیٹی اپنی رپورٹ میں نہ صرف اس خاص مشین کی خرابی کی وجوہات بلکہ پی آئی ایم ایس اور دیگر سرکاری ہسپتالوں میں طبی آلات کی دیکھ بھال کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے سفارشات بھی پیش کرے گی۔ حکومت کو ان سفارشات پر عملدرآمد کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔

اگر حکومت مؤثر اقدامات کرنے میں کامیاب رہتی ہے، تو یہ نہ صرف پی آئی ایم ایس بلکہ پورے ملک کے عوامی صحت کے نظام میں بہتری کا باعث بن سکتا ہے۔ اس سے مریضوں کو بہتر طبی سہولیات میسر آئیں گی اور سرکاری ہسپتالوں پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہو گا۔ بصورت دیگر، ایسے واقعات بار بار پیش آ سکتے ہیں جو عوامی صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مزید کمزور کریں گے۔ یہ واقعہ حکومتی ترجیحات میں صحت کے شعبے کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

اہم نکات

  • وزیراعظم شہباز شریف: نے پی آئی ایم ایس میں سی ٹی اے مشین کی خرابی کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی۔
  • پی آئی ایم ایس: پاکستان کے اہم ترین طبی اداروں میں سے ایک، جہاں اہم طبی آلات کی خرابی نے سوالات اٹھا دیے۔
  • سی ٹی اے مشین: دل کے امراض کی تشخیص کے لیے ضروری، جس کی عدم فعالیت کے باعث سابق وزیراعظم عمران خان کا ٹیسٹ نہ ہو سکا۔
  • تحقیقاتی کمیٹی: اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکرٹری کی سربراہی میں تشکیل دی گئی، حقائق اور ذمہ داری کا تعین کرے گی۔
  • عوامی صحت: یہ واقعہ ملک کے عوامی صحت کے نظام میں طبی آلات کی دیکھ بھال کے نظام کی خامیوں کو واضح کرتا ہے۔
  • ماہرین کی آراء: طبی اور انتظامی ماہرین نے اس صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے جامع اصلاحات پر زور دیا۔

اہم اصطلاحات اور مزید پڑھیں

  • وزیراعظم شہباز شریف
  • پی آئی ایم ایس
  • سی ٹی اے مشین
  • عمران خان
  • طبی سہولیات
  • تحقیقاتی کمیٹی
  • pakistan
  • Shehbaz
  • takes
  • notice
  • non-functional
  • machine

معتبر ذرائع:

متعلقہ خبریں

آرکائیو دریافت

اکثر پوچھے گئے سوالات

وزیراعظم شہباز شریف نے پی آئی ایم ایس میں کس مسئلے کا نوٹس لیا؟

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) کے شعبہ امراض قلب میں غیر فعال سی ٹی اے (کمپیوٹڈ ٹوموگرافی انجیوگرافی) مشین کا نوٹس لیا۔ یہ مشین سابق وزیراعظم عمران خان کے طبی معائنے کے دوران غیر فعال پائی گئی۔

سی ٹی اے مشین کی خرابی کے بعد کیا اقدامات کیے گئے؟

سی ٹی اے مشین کی خرابی کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعظم نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکرٹری کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کو اس معاملے کی تمام جہتوں کا جائزہ لینے، حقائق کا تعین کرنے اور ذمہ داران کا تعین کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اس واقعہ کے عوامی صحت کے نظام پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟

اس واقعہ نے عوامی صحت کے نظام میں طبی آلات کی دیکھ بھال کی خامیوں کو اجاگر کیا ہے۔ اس سے مریضوں کو بروقت تشخیص اور علاج کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، اور سرکاری ہسپتالوں پر عوامی اعتماد میں کمی آ سکتی ہے۔

Source: Official Agency via پاکش نیوز Research.

یہ خبر شیئر کریں

[DISCOVERY_AI_WIDGET: LOADING_RECOMMENDED_ROWS...]

تبصرے

تبصرہ کرنے کے لیے Ghost ممبر لاگ اِن ضروری ہے (فری ممبرشپ قابلِ قبول ہے).