Listen to this articlePress play to hear this story in Urdu podcast format.Listen to this articleDownload audio

عید الفطر کی آمد سے قبل پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں ۲۴ قیراط سونے کی فی تولہ قیمت ۵ لاکھ روپے کی نفسیاتی حد سے نیچے گر کر ۴۹۹,۴۶۲ روپے پر بند ہوئی۔ یہ گراوٹ عالمی منڈی میں سونے کے نرخوں میں کمی کا نتیجہ ہے، جس نے پاکستانی صارفین اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک نیا سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا یہ کمی ایک مستحکم رجحان کا آغاز ہے یا عارضی اتار چڑھاؤ؟

ایک نظر میں

عید سے قبل پاکستان میں سونے کی قیمت ۵ لاکھ سے نیچے گر گئی، فی تولہ ۲۴,۳۰۰ روپے کی کمی کے بعد ۴۹۹,۴۶۲ روپے پر بند۔ یہ عالمی رجحان ہے اور خریداروں کے لیے اہم موقع۔

  • پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں حالیہ کمی کی بنیادی وجہ کیا ہے؟ پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں حالیہ کمی کی بنیادی وجہ عالمی بلین مارکیٹ میں سونے کے نرخوں میں گراوٹ ہے۔ یہ عالمی رجحان امریکی ڈالر کی قدر میں مضبوطی اور امریکی مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ اضافے کے اشاروں سے متاثر ہے۔
  • اس قیمت میں کمی سے پاکستانی خریداروں کو کیا فائدہ ہوگا؟ اس قیمت میں کمی سے پاکستانی خریداروں، خاص طور پر عید الفطر سے قبل زیورات خریدنے کے خواہشمند افراد کو سستے داموں خریداری کا موقع ملے گا۔ یہ متوسط طبقے کے لیے ایک بڑی رعایت ثابت ہو سکتی ہے اور صرافہ بازار میں خریداری کی رونق بڑھائے گی۔
  • کیا عید الفطر کے بعد بھی سونے کی قیمتوں میں گراوٹ کا رجحان جاری رہے گا؟ عید الفطر کے بعد سونے کی قیمتوں میں گراوٹ کا رجحان عالمی اقتصادی صورتحال، امریکی ڈالر کی قدر اور روپے کی قیمت پر منحصر ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر عالمی سطح پر امریکی ڈالر کی مضبوطی برقرار رہتی ہے تو مزید گراوٹ کا امکان ہے، تاہم جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے قیمتیں دوبارہ بڑھ سکتی ہیں۔

**ایک نظر میں** * جمعرات، ۱۹ مارچ ۲۰۲۶ کو پاکستان میں سونے کی قیمت ۵ لاکھ روپے فی تولہ سے نیچے گر گئی۔ * ۲۴ قیراط سونے کی فی تولہ قیمت میں ۲۴,۳۰۰ روپے کی نمایاں کمی کے بعد یہ ۴۹۹,۴۶۲ روپے پر آ گئی۔ * یہ کمی عالمی بلین مارکیٹ میں سونے کے نرخوں میں گراوٹ کے رجحان کا براہ راست نتیجہ ہے۔ * آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن (APSGJA) نے اس گراوٹ کی تصدیق کی ہے۔ * عید الفطر سے قبل یہ کمی خریداروں، خاص طور پر زیورات کے شوقین افراد کے لیے ایک غیر متوقع موقع فراہم کرتی ہے۔

جیسا کہ پاکش نیوز نے پہلے رپورٹ کیا, خلیجی کشیدگی کی نئی لہر اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ: پاکستانی معیشت اور عام….

**پس منظر اور عالمی و مقامی سیاق و سباق**

پاکستان میں سونے کی قیمتوں کا عالمی منڈی سے گہرا تعلق ہے، اور حالیہ گراوٹ بھی اسی عالمی رجحان کا حصہ ہے۔ عالمی سطح پر، سونے کی قیمتیں عام طور پر امریکی ڈالر کی قدر، امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) کی مانیٹری پالیسی، اور عالمی اقتصادی و جغرافیائی سیاسی صورتحال سے متاثر ہوتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں، امریکی ڈالر کی مضبوطی اور فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ اضافے کے اشاروں نے عالمی مارکیٹ میں سونے کی طلب کو کم کیا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ مارچ ۲۰۲۶ تک، کئی عالمی اقتصادی تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ عالمی افراط زر پر قابو پانے کے لیے شرح سود بلند رہ سکتی ہے، جس سے سونے جیسی محفوظ سرمایہ کاری کی کشش کم ہو جاتی ہے۔

مقامی سطح پر، پاکستان میں سونے کی قیمتیں نہ صرف عالمی رجحانات بلکہ روپے کی قدر، درآمدی پالیسیوں اور مقامی طلب سے بھی متاثر ہوتی ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ چند سالوں سے ملکی معیشت میں عدم استحکام اور روپے کی قدر میں مسلسل کمی نے سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، جس کی وجہ سے اس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ تاہم، حالیہ مہینوں میں حکومتی معاشی اصلاحات اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ معاہدوں کے بعد پاکستانی روپے کی قدر میں نسبتاً استحکام دیکھنے میں آیا ہے، جس نے سونے کی درآمدی لاگت کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں سونے کی درآمدات میں تقریباً ۱۵ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو مقامی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

**ماہرین کا تجزیہ: گراوٹ کے پیچھے کی وجوہات اور مستقبل کے امکانات**

اس غیر معمولی گراوٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے، معروف معاشی تجزیہ کار ڈاکٹر سلمان شاہ کا کہنا تھا، "سونے کی قیمتوں میں یہ کمی عالمی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی مضبوطی اور عالمی معاشی استحکام کی طرف بڑھتے ہوئے رجحانات کا نتیجہ ہے۔ جب سرمایہ کاروں کو لگتا ہے کہ عالمی معیشت مستحکم ہو رہی ہے اور شرح سود بڑھ سکتی ہے، تو وہ سونے جیسی محفوظ سرمایہ کاری سے نکل کر زیادہ منافع بخش اثاثوں کی طرف رخ کرتے ہیں۔ یہ پاکستانی مارکیٹ کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے، کیونکہ یہ روپے کی قدر میں استحکام اور درآمدی بل میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔" ڈاکٹر شاہ نے مزید کہا کہ یہ صورتحال عید کے موقع پر صارفین کے لیے ایک اچھا موقع فراہم کر سکتی ہے، لیکن طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے عالمی رجحانات پر گہری نظر رکھنا ضروری ہے۔

آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن (APSGJA) کے صدر، حاجی ہارون رشید نے اس بات کی تصدیق کی کہ، "عید الفطر سے قبل سونے کی قیمتوں میں فی تولہ ۲۴,۳۰۰ روپے کی کمی ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ یہ براہ راست عالمی مارکیٹ میں ہونے والی گراوٹ کا اثر ہے، جہاں بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں ۶۸ ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ہمارے مقامی خریداروں کے لیے یہ ایک بہترین موقع ہے کہ وہ عید کی خریداری کے لیے سستے داموں زیورات خرید سکیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ ایسوسی ایشن کو توقع ہے کہ عید سے قبل مقامی طلب میں اضافہ ہو گا، جس سے صرافہ بازار میں رونق بڑھے گی۔

معاشی امور کے ماہر اور سرمایہ کاری کے مشیر، جناب فواد رضا نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "یہ گراوٹ قلیل مدتی خریداروں کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے، لیکن طویل مدتی سرمایہ کاروں کو محتاط رہنا چاہیے۔ سونے کی قیمتیں ہمیشہ عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور افراط زر کے دباؤ کے ساتھ اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہیں۔ اگرچہ فی الحال ڈالر کی قدر میں استحکام ہے، لیکن عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال بدستور موجود ہے۔ سرمایہ کاروں کو اپنے پورٹ فولیو کو متنوع رکھنے اور صرف سونے پر انحصار نہ کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔"

**اثرات کا جائزہ: کون متاثر ہوتا ہے اور کیسے؟**

سونے کی قیمتوں میں اس گراوٹ کے اثرات پاکستانی معاشرت کے مختلف طبقات پر مرتب ہوں گے۔ سب سے پہلے، عید الفطر کی آمد کے پیش نظر، وہ خاندان جو شادی بیاہ یا تحفے تحائف کے لیے زیورات خریدنے کا ارادہ رکھتے تھے، انہیں اب سستے داموں خریداری کا موقع ملے گا۔ یہ خاص طور پر متوسط طبقے کے لیے ایک بڑی رعایت ثابت ہو سکتی ہے، جو مہنگے سونے کی وجہ سے اپنی خواہشات کو پورا نہیں کر پا رہے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق، عید سے قبل زیورات کی فروخت میں ۱۰ سے ۱۵ فیصد اضافے کا امکان ہے۔

دوسری جانب، مقامی صرافہ بازاروں اور زیورات کی صنعت سے وابستہ افراد کے لیے بھی یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ سستی قیمتیں صارفین کو خریداری کی ترغیب دیں گی، جس سے کاروبار میں اضافہ ہو گا۔ یہ صنعت، جو گزشتہ چند سالوں سے مہنگائی اور کمزور قوت خرید کی وجہ سے مشکلات کا شکار تھی، اسے ایک نئی جان مل سکتی ہے۔ زیورات بنانے والے کاریگروں اور دکانداروں کے لیے زیادہ فروخت کا مطلب زیادہ آمدنی اور روزگار کے بہتر مواقع ہیں۔

تاہم، ان سرمایہ کاروں کے لیے جو سونے کو ایک محفوظ اثاثہ کے طور پر استعمال کر رہے تھے اور بلند قیمتوں پر اسے خرید چکے تھے، یہ گراوٹ ایک عارضی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ انہیں اپنے اثاثوں کی قدر میں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اگرچہ طویل مدتی نقطہ نظر سے سونے کو اب بھی ایک قابل بھروسہ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، حکومت کے لیے بھی یہ صورتحال اہم ہے کیونکہ سونے کی درآمدات پر ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر اثر پڑتا ہے۔ سستی درآمدات زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کر سکتی ہیں، لیکن اگر مقامی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے تو یہ فائدہ محدود بھی ہو سکتا ہے۔

**آگے کیا ہوگا: مستقبل کا تجزیہ اور ممکنہ پیش رفت**

سونے کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد، مستقبل کے رجحانات کا اندازہ لگانا ایک پیچیدہ عمل ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر عالمی سطح پر امریکی ڈالر کی مضبوطی کا رجحان برقرار رہتا ہے اور فیڈرل ریزرو اپنی سخت مانیٹری پالیسی جاری رکھتا ہے، تو سونے کی قیمتوں میں مزید گراوٹ کا امکان موجود ہے۔ تاہم، عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کسی بھی ممکنہ اضافے یا عالمی اقتصادی کساد بازاری کے خدشات سونے کو دوبارہ ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ابھار سکتے ہیں، جس سے اس کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔

پاکستان کے مقامی تناظر میں، روپے کی قدر میں استحکام اور حکومتی معاشی اصلاحات کا تسلسل سونے کی قیمتوں کو متاثر کرتا رہے گا۔ اگر روپے کی قدر مستحکم رہتی ہے یا اس میں مزید بہتری آتی ہے، تو مقامی سطح پر سونے کی قیمتیں عالمی منڈی کے مطابق کم رہ سکتی ہیں۔ تاہم، اگر روپے کی قدر میں دوبارہ گراوٹ آتی ہے تو عالمی قیمتیں کم ہونے کے باوجود مقامی قیمتوں پر اس کا منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ عید الفطر کے بعد، عام طور پر خریداری میں کمی آتی ہے، جو طلب کو متاثر کر سکتی ہے، لیکن شادیوں کے سیزن کا آغاز دوبارہ طلب میں اضافہ کر سکتا ہے۔ اس لیے، خریداروں اور سرمایہ کاروں کو عالمی اور مقامی دونوں سطحوں پر معاشی اشاریوں پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔

**کیا یہ گراوٹ پاکستانی خریداروں کے لیے ایک نیا موقع ہے؟**

اس سوال کا جواب ہاں میں ہے، لیکن ایک اہم شرط کے ساتھ۔ بلاشبہ، عید الفطر سے قبل سونے کی قیمتوں میں ۲۴,۳۰۰ روپے فی تولہ کی کمی، جس نے اسے ۵ لاکھ روپے کی نفسیاتی حد سے نیچے دھکیل دیا ہے، پاکستانی خریداروں، خاص طور پر زیورات خریدنے والوں کے لیے ایک بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک غیر متوقع رعایت ہے جو مہنگائی کی وجہ سے سونے کی خریداری ملتوی کر رہے تھے۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق، یہ کمی عید کی خریداری کو فروغ دے گی اور مقامی صرافہ بازار میں رونق بڑھائے گی۔

تاہم، یہ موقع اس وقت تک قابل قدر ہے جب تک کہ خریدار اس کمی کو محض قلیل مدتی فائدہ کے طور پر دیکھیں۔ طویل مدتی سرمایہ کاری کے نقطہ نظر سے، ماہرین احتیاط برتنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ عالمی اقتصادی صورتحال اور امریکی ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ سونے کی قیمتوں کو دوبارہ متاثر کر سکتا ہے۔ لہٰذا، اگرچہ موجودہ گراوٹ عید سے قبل زیورات کی خریداری کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کرتی ہے، سرمایہ کاروں کو عالمی منڈی کے رجحانات، روپے کی قدر اور ملکی معاشی استحکام پر نظر رکھتے ہوئے ہی کوئی بڑا فیصلہ کرنا چاہیے۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جو محدود وقت کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے، لیکن اس کی پائیداری عالمی اور مقامی معاشی عوامل پر منحصر ہے۔

متعلقہ خبریں

آرکائیو دریافت

اکثر پوچھے گئے سوالات

پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں حالیہ کمی کی بنیادی وجہ کیا ہے؟

پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں حالیہ کمی کی بنیادی وجہ عالمی بلین مارکیٹ میں سونے کے نرخوں میں گراوٹ ہے۔ یہ عالمی رجحان امریکی ڈالر کی قدر میں مضبوطی اور امریکی مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ اضافے کے اشاروں سے متاثر ہے۔

اس قیمت میں کمی سے پاکستانی خریداروں کو کیا فائدہ ہوگا؟

اس قیمت میں کمی سے پاکستانی خریداروں، خاص طور پر عید الفطر سے قبل زیورات خریدنے کے خواہشمند افراد کو سستے داموں خریداری کا موقع ملے گا۔ یہ متوسط طبقے کے لیے ایک بڑی رعایت ثابت ہو سکتی ہے اور صرافہ بازار میں خریداری کی رونق بڑھائے گی۔

کیا عید الفطر کے بعد بھی سونے کی قیمتوں میں گراوٹ کا رجحان جاری رہے گا؟

عید الفطر کے بعد سونے کی قیمتوں میں گراوٹ کا رجحان عالمی اقتصادی صورتحال، امریکی ڈالر کی قدر اور روپے کی قیمت پر منحصر ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر عالمی سطح پر امریکی ڈالر کی مضبوطی برقرار رہتی ہے تو مزید گراوٹ کا امکان ہے، تاہم جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے قیمتیں دوبارہ بڑھ سکتی ہیں۔