پاکستان کے دفتر خارجہ نے بدھ کے روز بھارت کی وزارت خارجہ کی جانب سے افغانستان میں دہشتگردی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف پاکستان کے حالیہ اقدامات پر جاری کردہ "بے بنیاد، گمراہ کن اور غیر ضروری بیان" کو سختی سے مسترد کر دیا۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان خطے میں سلامتی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے، اور بھارتی بیان کو اس کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کا حق رکھتا ہے، اور یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہیں۔
ایک نظر میں
پاکستان نے افغانستان میں دہشتگردی پر بھارت کا بیان مسترد کر دیا۔ یہ ردعمل فضائی حملوں کے بعد آیا، جس سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا۔
- پاکستان نے بھارت کے بیان کو کیوں مسترد کیا؟ پاکستان نے بھارت کے بیان کو اس لیے مسترد کیا کیونکہ اسے "بے بنیاد، گمراہ کن اور غیر ضروری" قرار دیا گیا۔ پاکستان کے مطابق، بھارت کا یہ بیان اس کی قومی سلامتی کے دفاع میں کیے گئے قانونی اقدامات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔
- آپریشن "غضب لیل حق" کا بنیادی مقصد کیا ہے؟ آپریشن "غضب لیل حق" کا بنیادی مقصد افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشتگرد گروہوں، خاص طور پر کالعدم ٹی ٹی پی، کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا اور انہیں تباہ کرنا ہے تاکہ پاکستان کی قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا سدباب کیا جا سکے۔
- اس پیشرفت کے پاک-افغان تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ اس پیشرفت سے پاک-افغان تعلقات میں مزید کشیدگی آنے کا امکان ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑھ سکتا ہے۔ یہ کشیدگی دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کوششوں میں رکاوٹ بن سکتی ہے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔
ایک نظر میں
- پاکستان نے بھارت کے افغانستان میں دہشتگردی کے ٹھکانوں پر کارروائی سے متعلق بیان کو سختی سے مسترد کیا۔
- یہ ردعمل پاکستان کی جانب سے آپریشن "غضب لیل حق" کے دوران کابل اور ننگرہار میں کیے گئے فضائی حملوں کے بعد سامنے آیا۔
- پاکستان نے 'کیمپ فینکس' کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جسے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) استعمال کر رہی تھی۔
- بھارت نے پاکستان کے اقدامات کو "یکطرفہ فوجی کارروائی" قرار دیا، جس پر پاکستان نے سخت اعتراض کیا۔
- دفتر خارجہ نے زور دیا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی کا دفاع کرنے کا مکمل حق رکھتا ہے اور افغانستان سے دہشتگردی کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔
اس تنازع کی جڑیں پاک-افغان سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پاکستان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات میں پیوست ہیں۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اس سے منسلک گروہوں پر عائد کی جاتی ہے، جو مبینہ طور پر افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستانی حکام نے بارہا افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشتگرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، ۲۰۲۳ میں دہشتگردی کے واقعات سے ملک کو تقریباً ۱۱ ارب روپے کا نقصان ہوا۔
جیسا کہ پاکش نیوز نے پہلے رپورٹ کیا, سعودی عرب کا افغان-پاکستان سرحدی لڑائی میں تعطل کا خیرمقدم، مگر کیا یہ خطے میں….
افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے پاک-افغان تعلقات میں پیچیدگی آئی ہے۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ افغان سرزمین سے اس کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں، جبکہ افغان عبوری حکومت ان دعوؤں کو مسترد کرتی رہی ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان نے اپنی قومی سلامتی کے دفاع میں حالیہ فضائی کارروائیاں کیں، جنہیں 'آپریشن غضب لیل حق' کا حصہ قرار دیا گیا۔ ان کارروائیوں میں کابل اور ننگرہار کے علاقوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سابق امریکی فوجی اڈہ 'کیمپ فینکس' بھی شامل تھا، جو اب افغان طالبان کی افواج کے زیر استعمال ہے۔
پاک افغان سرحدی کشیدگی اور علاقائی سلامتی کے مضمرات
پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل سرحد ہمیشہ سے ہی پیچیدہ رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں، سرحد پار سے دہشتگردی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق، ۲۰۲۳ میں پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ۲۰ فیصد اضافہ ہوا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے شدت پسند افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور وہاں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ان فضائی حملوں کا مقصد ان دہشتگرد ٹھکانوں کو تباہ کرنا تھا جو پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے تھے۔ ان حملوں کے بعد افغان عبوری حکومت کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا، جس نے ان کارروائیوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔
اس صورتحال نے نہ صرف پاک-افغان تعلقات کو مزید کشیدہ کیا ہے بلکہ علاقائی سلامتی پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ خطے کے دیگر ممالک، خاص طور پر ایران اور وسطی ایشیائی ریاستیں، بھی افغانستان سے جنم لینے والے ممکنہ عدم استحکام پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ کشیدگی علاقائی تجارت اور اقتصادی تعاون کے لیے بھی چیلنجز پیدا کر رہی ہے، خصوصاً جب پاکستان اور افغانستان نے حال ہی میں تجارتی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں کی تھیں۔ پاک-افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے مطابق، سرحدی کشیدگی سے دوطرفہ تجارت میں سالانہ ۱۰ فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔
ماہرین کا تجزیہ
معروف سیکیورٹی تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے پاکش نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "بھارت کا یہ بیان اس کی دیرینہ پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ پاکستان کو علاقائی سطح پر بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بھارت ہمیشہ سے افغانستان میں اپنے مفادات کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی تگ و دو میں رہا ہے۔ یہ بیان اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ بھارت علاقائی امن کے بجائے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کو ترجیح دے رہا ہے، خاص طور پر جب پاکستان دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کر رہا ہے۔"
بین الاقوامی تعلقات کی ماہر ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا تھا، "افغانستان میں زمینی حقائق انتہائی پیچیدہ ہیں۔ بھارت کا بیان محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہے جو زمینی حقائق کو نظر انداز کرتا ہے۔ پاکستان کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے اور عالمی برادری کو افغانستان سے جنم لینے والی دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے موقف کو سمجھنا چاہیے۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی طاقتیں افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کردار ادا کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔"
سابق سفیر اور بین الاقوامی امور کے ماہر، جناب ریاض کھوکھر (مرحوم) کے قریبی رفقاء کے مطابق، ان کا اکثر یہ مؤقف رہتا تھا کہ "علاقائی امن کے لیے تمام فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔" ان کے تجزیے کے مطابق، "بھارت کا اس معاملے میں مداخلت کرنا دراصل افغانستان میں اپنے اسٹریٹجک مفادات کو تقویت دینے کی کوشش ہے، جس کا مقصد پاکستان کو مزید دباؤ میں لانا ہے۔ یہ اقدام علاقائی سطح پر عدم اعتماد کو بڑھاوا دے گا اور دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔"
بھارت کے بیان کے پیچھے چھپے مقاصد اور عالمی ردعمل
بھارت کی وزارت خارجہ کے بیان کے پیچھے کئی ممکنہ مقاصد کارفرما ہو سکتے ہیں۔ ایک مقصد یہ ہے کہ وہ علاقائی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کرے اور افغانستان میں اپنے مفادات کو مضبوط کرے۔ بھارت کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ افغانستان میں اپنی موجودگی کو برقرار رکھے اور پاکستان کے اثر و رسوخ کو کم کرے۔ یہ بیان اس حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے جس کے تحت بھارت پاکستان کے اقدامات کو عالمی سطح پر غیر قانونی قرار دے کر اسے سفارتی دباؤ میں لانا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ، بھارت اندرونی سیاسی دباؤ کا بھی شکار ہو سکتا ہے، جہاں وہ اپنی عوام کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ علاقائی معاملات میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
عالمی برادری نے اس صورتحال پر محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے۔ امریکہ، جس کے افغانستان سے انخلا کے بعد سے خطے میں سلامتی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی ہے، نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی ذرائع سے مسائل حل کرنے کی اپیل کی ہے۔ چین نے بھی خطے میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیا ہے اور تمام فریقین سے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ خلیجی ممالک، جو خطے میں استحکام کے خواہاں ہیں، نے بھی فریقین سے کشیدگی کم کرنے کی درخواست کی ہے۔ اقوام متحدہ نے اپنے بیانات میں تمام ممالک کی خودمختاری کے احترام اور دہشتگردی کے خلاف عالمی کوششوں کی حمایت پر زور دیا ہے، تاہم کسی ایک فریق کی براہ راست حمایت سے گریز کیا ہے۔
اثرات کا جائزہ
پاکستان کے دفتر خارجہ کے اس سخت ردعمل اور اس کے پس پردہ فضائی کارروائیوں کے علاقائی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ سب سے پہلے، یہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے سے ہی کشیدہ تعلقات کو مزید خراب کر سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کوششوں میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ دوم، بھارت کے اس بیان نے پاک-بھارت تعلقات میں نئی کشیدگی کا اضافہ کیا ہے، جو پہلے ہی کشمیر اور دیگر سرحدی تنازعات کی وجہ سے خراب ہیں۔ یہ کشیدگی سفارتی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان مزید فاصلے پیدا کر سکتی ہے۔
سوم، اس صورتحال کا علاقائی امن و استحکام پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ افغانستان میں عدم استحکام اور سرحد پار سے دہشتگردی کے واقعات نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک سنگین چیلنج ہیں۔ اگر یہ صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اس سے علاقائی تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بھارت کے اس بیان کا سب سے اہم اثر یہ ہو سکتا ہے کہ یہ علاقائی سطح پر دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو متاثر کرے اور باہمی اعتماد کی فضا کو مزید خراب کرے۔ اس سے نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان بلکہ وسیع تر علاقائی تعاون میں بھی رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں، جس کا بالواسطہ فائدہ دہشتگرد گروہوں کو ہو سکتا ہے جو اس خطے میں عدم استحکام چاہتے ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
مستقبل قریب میں، پاکستان کی جانب سے سفارتی سطح پر مزید اقدامات متوقع ہیں۔ پاکستان اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر افغانستان میں دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کے بارے میں اپنے خدشات کو اجاگر کر سکتا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کر سکتا ہے کہ وہ افغان عبوری حکومت پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ اپنی سرزمین سے دہشتگردوں کے خاتمے کو یقینی بنائے۔ حکام نے بتایا کہ وزارت خارجہ اس معاملے پر عالمی دارالحکومتوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔
دوسری جانب، افغان عبوری حکومت کی جانب سے بھی ممکنہ جوابی اقدامات یا مذاکرات کی پیشکش سامنے آ سکتی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ فریقین کے درمیان بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں کی جائیں۔ بھارت کی جانب سے مزید بیانات یا سفارتی مہم کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر اگر وہ علاقائی سطح پر اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنا چاہتا ہو۔ اس کے علاوہ، علاقائی طاقتیں جیسے چین اور ایران بھی فریقین کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔ اس سارے معاملے میں، افغانستان میں زمینی صورتحال، خاص طور پر کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر گروہوں کی سرگرمیاں، علاقائی امن کے لیے ایک مستقل سوالیہ نشان بنی رہے گی، جس کا حل فی الحال دور نظر آتا ہے۔
متعلقہ خبریں
- سعودی عرب کا افغان-پاکستان سرحدی لڑائی میں تعطل کا خیرمقدم، مگر کیا یہ خطے میں پائیدار امن کی بنیاد…
- عاجل: خلیجی ممالک میں عید الفطر کا اعلان؛ مگر دفاعی حکمت عملی اور کراچی کے موسمی چیلنجز کا کیا…
- سعودی عرب میں عید الفطر جمعہ کو، مگر پاکستان اور خلیجی خطے پر کیا گہرے اثرات؟
آرکائیو دریافت
- پیپلزپارٹی اور ق لیگ کا اتحاد ممکن ہوگیا
- پاکستان : کروز میزائل حتف آٹھ کا کامیاب تجربہ
- کرم ایجنسی: شاہراہ کھلواو،فوج تعینات کرو
اکثر پوچھے گئے سوالات
پاکستان نے بھارت کے بیان کو کیوں مسترد کیا؟
پاکستان نے بھارت کے بیان کو اس لیے مسترد کیا کیونکہ اسے "بے بنیاد، گمراہ کن اور غیر ضروری" قرار دیا گیا۔ پاکستان کے مطابق، بھارت کا یہ بیان اس کی قومی سلامتی کے دفاع میں کیے گئے قانونی اقدامات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔
آپریشن "غضب لیل حق" کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
آپریشن "غضب لیل حق" کا بنیادی مقصد افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشتگرد گروہوں، خاص طور پر کالعدم ٹی ٹی پی، کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا اور انہیں تباہ کرنا ہے تاکہ پاکستان کی قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا سدباب کیا جا سکے۔
اس پیشرفت کے پاک-افغان تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
اس پیشرفت سے پاک-افغان تعلقات میں مزید کشیدگی آنے کا امکان ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑھ سکتا ہے۔ یہ کشیدگی دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کوششوں میں رکاوٹ بن سکتی ہے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔