عدن میں صدر مخالف مظاہروں میں دو فوجیوں سمیت چھے افراد ہلاک شام کے شہر درعا میں فائرنگ میں چھ افراد ہلاک

عدن (نیوزڈیسک) یمن میں امریکہ اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور جنوبی یمن کے شہر عدن میں صدر مخالف مظاہروں میں دو فوجیوں سمیت چھے افراد ہلاک اور تئیس زخمی ہو گئے ہیں۔

سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے المنصورہ میں مظاہرین نے فوجیوں پر اس وقت فائرنگ کی جب انہوں نے سڑک پر لگی رکاوٹیں ہٹانے سے روکا۔ اسکے بعد سپاہیوں نے ان علاقوں میں گھس کر فائرنگ کی جہاں سے ان پر گولیاں چلائی گئیں تھیں ۔ دوسری جانب دارالحکومت صنعا میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ کیا صدر علی عبداللہ صالح انتقال اقتدار کے معاہدے پر دستخط کریں گے یا معاہدے کی توثیق حکومتی پارٹی پر چھوڑ دیں گے۔

شام کے شہر درعا میں فوج اورسعودی عرب کے حمایت یافتہ تشدد پسند نشانہ بازوں کی فائرنگ میں چھ افراد ہلاک ہو گئے۔

عینی شاہدوں کے مطابق صبح سویرے فوج اورتشدد پسند نشانہ بازوں نے شہری علاقوں میں فائرنگ شروع کر دی۔ انہوں نے کہا فوج نے گزشتہ ایک ہفتے سے شہر کا محاصرہ کر رکھا ہے اور کسی کو بھی شہر میں داخلے یا نکلنے کی اجازت نہیں۔ محاصرے کی وجہ سے شہر میں خوراک، اور دواؤں کی شدید قلت ہو گئی ہے۔ اونچی عمارتوں پر بیٹھے نشانہ باز گھر سے نکلنے والوں پر گولی چلا دیتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کچھ فوجیوں نے مظاہرین پر گولی چلانے سے انکار کر دیا ہے۔

درعا میں جمعہ کے روز تینتیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ صدر بشار الاسد کے خلاف پندرہ مارچ سے جاری مظاہروں میں اب تک پانچ سو بیاسی افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔