ناقص کارکردگی کے بارے میں آئی ایس آئی کے اندر اور باہر انکوائری کی جائے گی، پاکستان نے کچھ خفیہ معلومات امریکہ کو دی تھیں
پاکستان کے عسکری حکام کے مطابق القاعدہ مالی معاملات پر تقسیم ہو چکی ہے اور ایمن الظواہری نے اسامہ بن لادن کو ’سائیڈ لائن‘ کر دیا تھا۔
اسلام آباد (نیوزڈیسک) پاکستانی فوج کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کی بیوی سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق القاعدہ کے سربراہ گزشتہ پانچ سال سے ایبٹ آباد میں مقیم تھے۔ جمعرات کو صحافیوں کو دی جانے والی بریفنگ میں اعلٰی عسکری حکام نے بھی تسلیم کیا ہے کہ وہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف کیے جانے والے خفیہ امریکی آپریشن سے لاعلم تھے۔ ان کے مطابق’کارروائی کے کسی بھی مرحلے پر ہمیں آگاہ نہیں کیا گیا تھا‘۔
حکام نے اسامہ بن لادن کی موجودگی کے بارے میں لاعلمی کو خفیہ اداروں کی ناقص کارکردگی قرار دیا اور کہا کہ اس ناقص کارکردگی کے بارے میں آئی ایس آئی کے اندر اور باہر بھی انکوائری کی جائے گی۔
تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سینئر رہنماؤں سمیت سو سے زائد القاعدہ ارکان کی گرفتاری یا ہلاکت میں آئی ایس آئی کے کلیدی کردار کے باوجود اس کی خدمات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اس آپریشن کے بارے میں پاکستانی حکام کو مطلع کرنا چاہیے تھا اور تعاون دو طرفہ ہونا چاہیے۔ جیسا کہ ہم نے ملا بردار کی بابت کیا ویسا امریکہ کو بھی کرنا چاہیے تھا‘۔
اعلٰی فوجی حکام کا کہنا تھا اس آپریشن کے سلسلے میں پاکستان نے کچھ خفیہ معلومات امریکہ کو دی تھیں ۔حکام نے یہ بھی بتایا کہ عربی زبان بولنے والے فرد کی اس علاقے سے سعودی عرب کی جانے والی کچھ کالز بھی ٹریس کی ہیں جس میں رقوم کی منتقلی کا ذکر ہے۔
پاکستان کے عسکری حکام کے مطابق القاعدہ مالی معاملات پر تقسیم ہو چکی ہے اور ایمن الظواہری نے اسامہ بن لادن کو ’سائیڈ لائن‘ کر دیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کی اہلیہ کے بیان کے مطابق وہ پانچ برس کے بعد اس کمرے سے باہر نکلی ہیں اور اسامہ بھی اس سارے عرصے میں وہیں تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسامہ کی تین بیویوں کو حراست میں لیا گیا ہے جن کے ساتھ تیرہ بچے بھی تھے تاہم یہ واضح نہیں کہ ان میں سے کتنے بچے اسامہ کے ہیں۔
اسامہ کی ایک بیوی نے جن کا تعلق یمن سے ہے بتایا ہے کہ انہیں گولی لگنے اور ان کے بیہوش ہونے تک اسامہ زندہ تھے لیکن اسامہ کی ایک بیٹی نے تصدیق کی کہ ان کے والد کو ان کی آنکھوں کے سامنے مارا گیا۔
ان اطلاعات کے بارے میں کہ امریکہ نے ان سے ان افراد تک رسائی کا مطالبہ کیا ہے، فوجی حکام کا کہنا تھا کہ امریکہ تو ہر کسی کی حوالگی کا مطالبہ کرتا رہتا ہے۔
پاکستانی عسکری حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایبٹ آباد سے حال ہی میں پکڑنے جانے والا ایک اور دہشتگرد عمر پاتک اگرچہ معلومات کا خزانہ ثابت ہوا ہے لیکن اس کا اسامہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
فوجی حکام کا کہنا تھا کہ فراج اللبی کی گرفتاری کے لیے ایبٹ آباد میں سال دو ہزار تین میں کارروائی کی گئی تھی جس میں ایک شخص ہلاک ہوا لیکن اللبی وہاں سے فرار ہوگیا۔ ’اس سے اگلے روز اسے ہم نے مردان سے گرفتار کر لیا تھا لیکن ہماری تفتیش اور کافی عرصے تک امریکی حراست میں بھی اس نے کچھ بتانے سے مسلسل انکار کیا۔ ہوسکتا ہے اس نے اب کچھ امریکیوں کو بتایا ہو‘۔
فوجی حکام کا کہنا تھا کہ اگر انہیں اسامہ کی موجودگی کے بارے میں علم ہوتا تو وہ ضرور خود اس کے خلاف کارروائی کرتے۔
آئی ایس آئی کی کارکردگی کے بارے میں حکام کا کہنا تھا کہ اب ملک میں موجود تمام غیرملکیوں پر نظر رکھنا ان کے لیے ناممکن ہوگیا ہے۔ ’اب تک صرف سات ہزار ویزے امریکیوں کو جاری کیے جا چکے ہیں‘۔
فوجی افسران کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی ہیلی کاپٹر بہتر ٹیکنالوجی کی وجہ سے راڈار میں دکھائی نہیں دیے۔ ’پاکستان کا چپہ چپہ رڈار کی کوریج میں نہیں ہے۔ محض اہم مقامات اور جوہری اثاثوں کے لیے نہ صرف رڈار ہیں بلکہ انفنٹری بھی تعینات ہے لہذا وہاں ایسی غیرملکی کارروائی نہیں ہو سکتی ہے‘۔