جاپانی عینک ساز ادارے نے ایک ایسی عینک بنائی ہے، جسے پہنا جائے تو وہ انسان کو آنکھ جھپکانے پر مجبور کر دیتی ہے۔ کمپیوٹر، ویڈیو گیمز یا ٹی وی سکرین کے سامنے گھنٹوں بیٹھنے والے افراد کی آنکھوں کو تحفظ دینے کے لئے یہ پلکیں جھپکانے پر مجبور کرنے والی خود کار عینک ہے۔ جاپانی ماہرین کے مطابق اس عینک کے شیشوں کو اس انداز سے تیار کیاگیا ہے کہ اسے پہننے والا شخص ہر پانچ سیکنڈ بعد آنکھ جھپکنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اس عمل کی وجہ سے اس کی آنکھوں کے پٹھے مضبوط رہتے ہیں اور بصارت میں خرابی کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ اس عینک کو ”ونک گلاسز“ کا نام دیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر اس عینک کی قیمت 430 ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ میسوناگا عینک ساز جاپانی ادارے نے اپنی تیار کردہ عینک کے بارے میں کہا ہے کہ اس کے استعمال سے کمپیوٹر پر کام کرنے والے لوگوں کو نظر کی کمزوری سے نجات مل جائے گی۔ اس عینک میں ایک خاص طرح کا شیشہ استعمال کیا گیا ہے۔ اسے پہننے والا اپنی پلکیں نہ جھپکے تو اس کے شیشوں پر دھند چھا جاتی ہے۔ اس دھند سے بچنے کے لئے ہر پانچ سیکنڈ کے اندر اندر آنکھ جھپکنی پڑتی ہے۔ اس عینک کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اگر 3سے5 سیکنڈ تک کسی چیز پر مسلسل نگاہیں مرکوز رکھی جائیں توبھی عینک کے شیشے پر دھند چھا جاتی ہے۔ یہ دھند اس وقت خودبخود ختم ہو جاتی ہے، جب آنکھ جھپک دی جائے۔ سو اسے پہننے والا شخص خود بخود آنکھ جھپکنے پر مجبور ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ مرد ہر 3 سیکنڈ بعد جب کہ خواتین ہر 4 سیکنڈ بعد آنکھ جھپکتی ہیں۔جاپانی شہر فوکوئی سے تعلق رکھنے والی عینک ساز کمپنی میسوناگا کو پچھلے برس شہرت اس وقت ملی، جب امریکی نائب صدارتی امیدوار سارا پالن بین الاقوامی میڈیا پر نظر آئیں۔ یہ کمپنی سارا پالن کے لئے عینکیں ڈیزائن کرتی ہے۔