سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹویٹر) نے حال ہی میں ایک پاکستانی شخص کی جانب سے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ویڈیوز کو پھیلانے کے لیے 31 جعلی اکاؤنٹس استعمال کرنے کا انکشاف کیا ہے۔ یہ واقعہ ڈیجیٹل دور میں غلط معلومات کے پھیلاؤ اور اس کے ممکنہ منفی اثرات پر گہرے سوالات اٹھاتا ہے۔ X کے تھریٹ انٹیلیجنس ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق، یہ مربوط غیر حقیقی رویہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی عروج پر ہے، اور آن لائن پروپیگنڈا کے ذریعے رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوششیں بڑھ رہی ہیں۔

اس انکشاف نے سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل ساکھ کے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے پوسٹ کی جانے والی X نے پاکستانی شخص کے AI ویڈیوز کا انکشاف کیا ہے جو کہ زیادہ تر امریکہ-اسرائیل-ایران تنازع سے متعلق تھیں، اور بظاہر ان کا مقصد ایک مخصوص بیانیے کو فروغ دینا تھا۔ X کی رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان ویڈیوز کا مواد کیا تھا یا وہ کس خاص فریق کے حق یا مخالفت میں تھیں، تاہم ایسے واقعات عام طور پر کسی خاص ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ پلیٹ فارم نے ان تمام 31 اکاؤنٹس کو اپنی پالیسیوں کی خلاف ورزی پر معطل کر دیا ہے، جو غلط معلومات کے خلاف اس کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تعلقات ایک عرصے سے کشیدہ چلے آ رہے ہیں، اور حالیہ مہینوں میں مشرق وسطیٰ میں پیش آنے والے واقعات نے اس کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایسے میں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس تنازع سے متعلق غلط معلومات یا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز کا پھیلاؤ سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ غلط معلومات نہ صرف عوامی رائے کو گمراہ کرتی ہے بلکہ حقیقی دنیا میں تنازعات کو ہوا دینے اور تشدد کو بھڑکانے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح افراد اور گروپس جدید ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھا کر حساس عالمی معاملات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ڈیجیٹل دور میں معلومات کی جنگ

مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی نے جہاں زندگی کے مختلف شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لائی ہیں، وہیں اس کے منفی استعمال کے امکانات نے بھی تشویش پیدا کی ہے۔ ڈیپ فیکس، اے آئی سے تیار کردہ تصاویر اور ویڈیوز اب اتنی حقیقت پسندانہ لگتی ہیں کہ عام صارفین کے لیے اصلی اور نقلی میں فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس واقعے میں ایک پاکستانی شخص کی جانب سے 31 اکاؤنٹس کا استعمال اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح منظم طریقے سے غلط معلومات پھیلانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یہ صرف ایک ٹیکنالوجی کا مسئلہ نہیں بلکہ معلومات کی جنگ کا ایک اہم پہلو ہے جہاں سچائی کو مسخ کر کے مخصوص مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، اس قسم کی سرگرمیاں صرف سیاسی یا جغرافیائی سیاسی ایجنڈوں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ یہ مالیاتی فراڈ، ذاتی بدنامی اور سماجی انتشار پھیلانے کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہیں۔ ایک ماہر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ، "جیسے جیسے AI ٹیکنالوجی مزید ترقی کرے گی، غلط معلومات پھیلانے کے حربے بھی زیادہ پیچیدہ اور حقیقت پسندانہ ہوتے جائیں گے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بنانا ہو گا، اور صارفین کو بھی ڈیجیٹل خواندگی کی تربیت دینا ضروری ہے۔" یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات کا پھیلاؤ ایک عالمی چیلنج بن چکا ہے جس سے نمٹنے کے لیے کثیر الجہتی حکمت عملی درکار ہے۔

پاکستان کے تناظر میں، یہ واقعہ ملک کے امیج کے لیے بھی کچھ سوالات کھڑے کر سکتا ہے، اگرچہ یہ ایک فرد کی ذاتی کارروائی ہے۔ تاہم، اس بات پر زور دینا ضروری ہے کہ کسی ایک فرد کی کارروائی کو پورے ملک یا اس کے شہریوں کی نمائندگی نہیں سمجھا جا سکتا۔ پاکستان میں بھی ڈیجیٹل خواندگی اور آن لائن مواد کی تصدیق کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ شہری ایسی غلط معلومات کا شکار ہونے سے بچ سکیں۔ حکومت اور نجی شعبے کو مل کر ایسے پلیٹ فارمز تیار کرنے ہوں گے جو جعلی خبروں اور پروپیگنڈا کا مقابلہ کر سکیں۔

پلیٹ فارمز کی ذمہ داری اور مستقبل کے چیلنجز

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے X کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز کو غلط معلومات اور پروپیگنڈا کے پھیلاؤ کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔ X نے اس معاملے میں فوری کارروائی کر کے اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن یہ ایک جاری جنگ ہے۔ پلیٹ فارمز کو نہ صرف مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی شناخت کے لیے جدید الگورتھم میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے بلکہ انسانی معتدلین کی تربیت بھی ضروری ہے جو پیچیدہ سیاق و سباق کو سمجھ سکیں۔ اس کے علاوہ، ایسے اکاؤنٹس کی نشاندہی اور انہیں ہٹانا جو ڈیجیٹل پروپیگنڈا میں ملوث ہیں، ایک مسلسل عمل ہے۔

مستقبل میں، توقع ہے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے غلط معلومات پھیلانے کی کوششیں مزید بڑھیں گی۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون، قانونی فریم ورک کی مضبوطی اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ صارفین کو بھی ہر آن لائن مواد پر تنقیدی نظر ڈالنے کی تربیت دی جانی چاہیے، خاص طور پر اس مواد پر جو بہت زیادہ جذباتی ہو یا کسی حساس موضوع سے متعلق ہو۔ اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں معلومات کی تصدیق اور ذمہ دارانہ شیئرنگ کی عادت اپنانا اب پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ اس طرح کے واقعات مستقبل میں بھی سامنے آتے رہیں گے، اس لیے ہمیں ان کے مقابلے کے لیے تیار رہنا ہو گا۔